MOJ E SUKHAN

طے کیا اس طرح سفر تنہا

طے کیا اس طرح سفر تنہا
ایک ہم ایک رہ گزر تنہا

کون ہوتا رفیق تیرہ شبی
دل جلایا ہے تا سحر تنہا

خیریت پوچھنے کو آئی ہے
زندگی مجھ کو دیکھ کر تنہا

آفت جاں ہے وضع ہم سفری
وقت کی راہ سے گزر تنہا

دھڑکنوں کا بھی ہے عجب انداز
دل کی وادی ہے کس قدر تنہا

نہ ملا درد آشنا کوئی
کٹ گیا درد کا سفر تنہا

دشت میں اپنی ہی تجلی کے
جھلملایا کیا قمر تنہا

ساعتیں دیتی ہی رہیں آواز
زندگی چل پڑی کدھر تنہا

قتل گاہ وفا ملی خالی
حرمتؔ آئے ہمیں نظر تنہا

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم