MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوابوں کے ساتھ ذہن کی انگڑائیاں بھی ہیں

خوابوں کے ساتھ ذہن کی انگڑائیاں بھی ہیں
اک روشنی بھی ہے کئی پرچھائیاں بھی ہیں

یہ کائنات خود بھی ہے اک پیکر جمیل
اور کچھ ترے جمال کی رعنائیاں بھی ہیں

ڈوبا ہوا ہوں قلزم آلام میں مگر
زیر قدم حیات کی پرچھائیاں بھی ہیں

جادو جگاتی رات کے سایوں کے آس پاس
لرزاں تمہاری یاد کی پہنائیاں بھی ہیں

آتا نہیں شباب یوں ہی کائنات پر
مصروف کار عشق کی برنائیاں بھی ہیں

شام بلا نہ مجھ سے چرا اس طرح نگاہ
تنہا نہیں ہوں میں مری تنہائیاں بھی ہیں

ہیں تیری انجمن میں ہمیں اک فسردہ دل
لیکن ہمیں سے انجمن آرائیاں بھی ہیں

حرمتؔ فقط بلندی احساس ہی نہیں
میری طلب میں روح کی گہرائیاں بھی ہیں

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم