MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگ

دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگ
کتنے خوابوں کی قسم کھائے ہوئے ہیں ہم لوگ

ایک عالم کے حریف ایک زمانے کے نقیب
جیسے تاریخ کے دہرائے ہوئے ہیں ہم لوگ

ایک مدت ہوئی ہم ڈھونڈھ رہے ہیں خود کو
اپنی آواز کے بھٹکائے ہوئے ہیں ہم لوگ

جس کے شعلوں سے نمو پائیں گے کچھ پھول نئے
آگ سینے میں وہ دہکائے ہوئے ہیں ہم لوگ

جن سے بیدار ہوا لذت آزار کا ذوق
چوٹیں ایسی بھی کئی کھائے ہوئے ہیں ہم لوگ

ایک گتھی جو سلجھ کر بھی نہ سلجھی زنہار
اس کو سلجھا کے بھی الجھائے ہوئے ہیں ہم لوگ

ہوش میں رہ کے بھی لازم ہے کہ مدہوش رہیں
راز آنکھوں کا تری پائے ہوئے ہیں ہم لوگ

گردش وقت کوئی اور ٹھکانا بتلا
محفل دوست سے اکتائے ہوئے ہیں ہم لوگ

آنچ آئی نہ کڑی دھوپ میں لیکن حرمتؔ
چاندنی راتوں کے سنو لائے ہوئے ہیں ہم لوگ

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم