MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں

ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں
سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

خود آفتاب مری راہ کا چراغ بنے
مگر یہ بات مرے چاند کو گوارا نہیں

جو اس میں اتری تو طوفان ہی ملیں گے مجھے
میں جانتی ہوں کہ وہ موج ہے کنارا نہیں

عجب فضا ہے کہ رنگ نمود صبح بھی ہے
سیاہ رات نے بھی پیرہن اتارا نہیں

وجود جس کو کسی معتبر شجر نے دیا
ہوا کی زد میں بھی تنکا وہ بے سہارا نہیں

جلے گا خود بھی سحر تک مجھے بھی لو دے گا
چراغ شام کوئی بخت کا ستارا نہیں

یاسمین حمید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم