MOJ E SUKHAN

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی

مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی
چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

رہ حیات کی ہر کشمکش پہ بھاری ہے
وہ بیکلی جو ترے عہد مختصر میں رہی

خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے
اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

ہمارے نام کی حق دار کس طرح ٹھہرے
وہ زندگی جو مسلسل ترے اثر میں رہی

نئی اڑان کا رستہ دکھا رہی ہے ہمیں
وہ گرد پچھلے سفر کی جو بال و پر میں رہی

یاسمین حمید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم