MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو
مری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کرو

سب خد و خال مرے دھند ہوئے جاتے ہیں
صبح کے رنگ سے آؤ مجھے تصویر کرو

جیتنا میرے لیے کرب ہوا جاتا ہے
مرے پندار کو توڑو مجھے تسخیر کرو

اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے
مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

اب مری آنکھ سے لے لو خلش بینائی
یا مرے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرو

یاسمین حمید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم