MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل ان کی یاد سے جو بہلتا چلا گیا

دل ان کی یاد سے جو بہلتا چلا گیا
غم آپ اپنی آگ میں جلتا چلا گیا

تو لا مکاں ہے تو مری منزل بھی بے نشاں
تیرے لئے چلا تو میں چلتا چلا گیا

کانٹے جہاں جہاں پہ ملے راہ عشق میں
دامن بچا بچا کے نکلتا چلا گیا

ناکامیوں سے کم نہ ہوا حوصلہ مرا
ٹھوکر لگی تو اور سنبھلتا چلا گیا

موجوں کے رخ کو پھیر دیا میں نے بارہا
طوفاں کا سر اٹھا تو کچلتا چلا گیا

یہ جان کر کہ غم ہے تری یاد کا سبب
میں ہر خوشی کو غم سے بدلتا چلا گیا

اہل زمانہ گرد کو میری نہ پا سکے
ہر قافلے سے دور نکلتا چلا گیا

اشیاء ہیں برقؔ سلسلۂ وحدت الوجود
سو سو طرح سے نام بدلتا چلا گیا

رحمت الہی برق اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم