MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھی

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھی
ہوئی جو خشک تو میرے لیے صلیب بھی تھی

دیار سنگ میں سر پھوڑتی پھری برسوں
مری صدا کہ جو اس دور کی نقیب بھی تھی

جو شمع دور تھی اس نے فقط دھواں ہی دیا
اسی کی لو سے جلا ہوں جو کچھ قریب بھی تھی

سرشت حسن عجب ہے کہ وصل کے ہنگام
نگاہ یار میں کیفیت رقیب بھی تھی

سکوں کہاں کہ میں آشوب فکر رکھتا ہوں
جو مہر تھا تو تمازت مرا نصیب بھی تھی

رضی اختر شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم