MOJ E SUKHAN

زندگی درد سے ملانے میں

زندگی درد سے ملانے میں
کوئی کردار ہے فسانے میں

آندھیاں بال کھولے پھرتی ہیں
وہ بھی تعمیر کے زمانے میں

پھر سمندر سکھا دیے ہم نے
دشت سے دشت کو ملانے میں

اور محبت کی سانس گُھٹنے لگی
راز کھلنے لگا چُھپانے میں

دلربا تو کُجا خدا تک بھی
لوگ ماہر کئی بنانے میں

خود بھی تقسیم ہو گئی ہوگی
اس قدر رابطے بنانے میں

ہندوانہ مزاج ہے الفت
دیر کرتی نہیں جلانے میں

زندگی کم ہے شازیہ اکبر
دیر کر دی ہے تم نے آنے میں

شازیہ اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم