MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھے دریافت کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

مجھے دریافت کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو
سنہری بات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

یہی دو بول کافی ہیں محبت سے بھرے ہوں تو
انھیں خیرات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

دیا بُجھتا نہیں ہے آرزو کے ساتھ جلتا ہے
فروزاں ذات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

قفس شوریدہ سر لوگوں کی پہلی راجدھانی ہے
جنوں کی بات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

یہی اک جنس ہے کمیاب انسانوں کی منڈی میں
سخن سوغات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

چھلکتا ہے نگاہوں سے کوئی احساسِ محرومی
عیاں جذبات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

اکیلا پن تمھارا شازیہ اکبر کو بتلاے
بسر اوقات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

شازیہ اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم