MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے

اور سانپ بیٹھا ہے سائبان کے پیچھے

خوش گوار موسم پر کامیابیاں مبنی

من چلا سمندر ہے بادبان کے پیچھے

ہم سے رہ نوردوں کو دشت راس کیا آتا

آخرش پلٹنا تھا خاک چھان کے پیچھے

چیخ المدد شاید دست غیب آ جائے

ناولوں کے لشکر ہیں داستان کے پیچھے

تیر کھا کے پہلو میں میں ادھر تڑپتا تھا

اور میری پرچھائیں تھی کمان کے پیچھے

مضمحل نہ ہو جائے قوتوں کی تابانی

کوئی چھپ کے بیٹھا ہے آسمان کے پیچھے

ناقد‌ و ہلاکو میں ربط خاص ہے یاورؔ

کچھ قلم نما خنجر ہیں زبان کے پیچھے

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم