MOJ E SUKHAN

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہا

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہا
قسم سفر کی وہی ایک ہم رکاب رہا

سمجھ سکا نہ اسے میں قصور میرا ہے
کہ میرے سامنے تو وہ کھلی کتاب رہا

میں ایک لفظ بھی لیکن نہ پڑھ سکا اس کو
اگرچہ وہ بھی مرا شامل نصاب رہا

میں معرفت کے ہوں اب اس مقام پر کہ جہاں
کیا گناہ بھی تو خدشۂ ثواب رہا

حقیقتوں سے مفر چاہی تھی یشبؔ میں نے
پر اصل اصل رہا اور خواب خواب رہا

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم