MOJ E SUKHAN

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھا

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھا
مل رہے تھے مگر خیال نہ تھا

مل رہے تھے کہ دونوں تنہا تھے
گفتگو میں بھی قیل و قال نہ تھا

میرے اور اس کے درمیان ابھی
کوئی بھی سلسلہ بحال نہ تھا

راستے ختم ہو چکے تھے مگر
واپسی کا کوئی سوال نہ تھا

یہ بھی اک مرحلہ تمام ہوا
ہو گئے تھے جدا ملال نہ تھا

وہ ترا حسن ہو کہ عشق مرا
کوئی پابند ماہ و سال نہ تھا

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم