MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہے

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہے
کسی سفر کا مسافر ہو گھر ہی جاتا ہے

وہ آدمی ہی تو ہوتا ہے غم کی شدت سے
ہزار کوششیں کر لے بکھر ہی جاتا ہے

وہ ہجر ہو کہ ترے وصل کا کوئی لمحہ
وہ مستقل نہیں ہوتا گزر ہی جاتا ہے

جو اس سے پہلے بھی شیشے میں بال آیا ہو
تو دل کسی نئی الفت سے ڈر ہی جاتا ہے

چڑھا ہوا کوئی دریا ہو یا کہ نشہ ہو
یشبؔ کبھی نہ کبھی تو اتر ہی جاتا ہے

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم