MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے
سفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیے

سڑک سڑک مہک رہے تھے گل بدن سجے ہوئے
تھکے بدن اک اک گلے کا ہار لے کے چل دیے

جبلتوں کا خون کھولنے لگا زمین پر
تو عہد ارتقا خلا کے پار لے کے چل دیے

پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں
کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے

جراحتیں ملیں ہمیں بھی انکسار کے عوض
جھکا کے سر صداقتوں کی ہار لے کے چل دیے

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم