MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی
پھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھی

موسم دید میں اک سبز پری کا سایہ
اب گلہ کیا کہ طبیعت تو ہری رہنا تھی

میں کہ ہوں آدم اعظم کی روایت کا نقیب
میری شوخی سبب در بہ دری رہنا تھی

خواب عرفان حقیقت کے تمنائی تھے
زندگی اور مری راہبری رہنا تھی

آج بھی زخم ہی کھلتے ہیں سر شاخ نہال
نخل خواہش پہ وہی بے ثمری رہنا تھی

ساز و سامان تعیش تو بہت تھے یاورؔ
اپنے حصے میں یہی حرف گری رہنا تھی

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم