MOJ E SUKHAN

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیا

مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیا
ارتقا نے زندگی کا زخم گہرا کر دیا

ڈیڑھ نیزے پر ٹنگے سورج کی آنکھیں نوچ لو
بے سبب دہشت زدہ ماحول پیدا کر دیا

فکر کی لا‌ مرکزیت جاگتی آنکھوں میں خواب
ہم خیالی نے زمانے بھر کو اپنا کر دیا

اک شجر کو جسم کی نم سبز گاہوں کی تلاش
اور اس تحریک نے جنگل کو سونا کر دیا

خون کی سرخی سفیدی کی طرح محو سفر
کچھ نئے رشتوں نے ہر رشتے کو گندا کر دیا

اک کرن تسخیر کل کی سمت تھا پہلا قدم
آگ اگلتی آندھیوں نے ہم کو اندھا کر دیا

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم