MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گا

جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گا
گئے دنوں کے بعد عہد حال بھی نہ آئے گا

مری سخن سرائیوں کا اعتبار تو نہیں
جو تو نہیں تو ہجر کا سوال بھی نہ آئے گا

اگر وہ آج رات حد التفات توڑ دے
کبھی پھر اس سے پیار کا خیال بھی نہ آئے گا

شب وصال ہے بساط ہجر ہی الٹ گئی
تو پھر کبھی خیال ماہ و سال بھی نہ آئے گا

ملے گا کیا طلسم ذات کا حصار توڑ کر
کہ اس کے بعد شہر بے مثال بھی نہ آئے گا

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم