MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوں

سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوں
تمہاری دید کا کوئی نیا منظر نکالوں

یہ بے مصرف سی شے ہر گام آڑے آنے والی
انا کی کینچلی کو جسم سے باہر نکالوں

طلسمی معرکے کہتے ہیں اب سر ہو چکے ہیں
ذرا زنبیل کے کونے سے میں بھی سر نکالوں

لہو مہکا تو سارا شہر پاگل ہو گیا ہے
میں کس صف سے اٹھوں کس کے لیے خنجر نکالوں

بس اب تو منجمد ذہنوں کی یاورؔ برف پگھلے
کہاں تک اپنی استعداد کے جوہر نکالوں

یعقوب یاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم