کر لیا آنکھ کو ہر رنگ سے خالی میں نے
تری تصویر جو کمرے سے نکالی میں نے
قیس کی روح کو تسکین تو پہنچی ہو گی
دشت کی جا کے حکومت جو سنبھالی میں نے
آج یک طرفہ محبت کا اثر دیکھا ھے
تالی اک ہاتھ سے کیسے یہ بجا لی میں نے
محمود غزنی
کر لیا آنکھ کو ہر رنگ سے خالی میں نے
تری تصویر جو کمرے سے نکالی میں نے
قیس کی روح کو تسکین تو پہنچی ہو گی
دشت کی جا کے حکومت جو سنبھالی میں نے
آج یک طرفہ محبت کا اثر دیکھا ھے
تالی اک ہاتھ سے کیسے یہ بجا لی میں نے
محمود غزنی