بس یہی وصف مجھ میں اعلیٰ ہو
نعت گوئی مرا حوالہ ہو
عافیت پوچھتے ہیں اس کی بھی
جس نے کوڑا بدن پہ ڈالا ہو
اس کو پہلے گلے لگاتے ہیں
جو بھی میلے لباس والا ہو
خود اندھیرے سمیٹ کر ، کہتے
دشمنوں کے بھی گھر اجالا ہو
عظمتیں آپ بخش دیتے ہیں
رنگ چاہے کسی کا کالا ہو
سامنے جالیاں ہوں روضے کی
اور ، مرے آنسوؤں کی مالا ہو
ھے دعا ، غار ثور کا ، غزنی
میری ہستی بھی ایک جالا ہو
محمود غزنی