MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لینا

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لینا
سفر طویل ہے کچھ زاد راہ لے لینا

میں بے ثمر ہی سہی پھر بھی سایہ دار تو ہوں
کڑی ہو دھوپ تو مجھ میں پناہ لے لینا

ابھی تو ساتھ چلو ہاں جہاں میں رک جاؤں
تم اس مقام سے پھر اپنی راہ لے لینا

کسی مقام پہ ممکن ہے کام آ جائے
ہمارے بیچ جو تھی رسم و راہ لے لینا

وہ کم سواد سہی پھر بھی یہ نہیں آساں
غنیم دہر کے سر سے کلاہ لے لینا

یہی بہت ہے کہ اس دور ابتلا میں تقیؔ
کسی کا میری خبر گاہ گاہ لے لینا

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم