MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ممکن ہے زندگی کوئی رستہ نکال دے

ممکن ہے زندگی کوئی رستہ نکال دے
شاخوں پہ کوئی پھول ہی تازہ نکال دے

جدت سے ہم کو اپنی قدامت بھلی حضور
اخلاقیات کا جو جنازہ نکال دے

ا ک دن نکال کوئی ملاقات کے لیے
اس حبس میں سکون کا گوشہ نکال دے

اب کاش کوئی پھر سے مجھے اعتماد دے
دل سے جو چھوڑ جانے کا خدشہ نکال دے

سب پرچیوں پہ ایک ہی لکھتی رہی ہوں نام
تقدیر جانے کون سا قرعہ نکال دے

گر چاہتے ہو جینے کا آسان راستہ
پھر زندگی سے لفظ بھروسہ نکال دے

مصروف لوگ وقت بھی دیتے ہیں اس طرح
جیسے کوئی زکوۃ یا صدقہ نکال دے

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم