MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے

غزل

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے
کشتی نے اپنے اندر دریا اٹھا لیا ہے

اس نیم وصل سے یہ ترک تعلق اچھا
چاندی کو رکھ کے میں نے سونا اٹھا لیا ہے

اک تو پگار جیسے بچوں کی جیب خرچی
اوپر سے دوستوں کا خرچہ اٹھا لیا ہے

خوشبو کے عاشقوں کو تزئین باغ سے کیا
جو پھول بھی ذرا سا مہکا اٹھا لیا ہے

چبھ جائے سوئی بھی تو بھاگیں مجھے دکھانے
جیسے کہ میں نے سب کا ٹھیکا اٹھا لیا ہے

نانی نے ترک کر دی کیوں رسم قصہ گوئی
کیا چاند سے کسی نے چرخہ اٹھا لیا ہے

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم