MOJ E SUKHAN

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا

غزل

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا
سب کے کرداروں تلک کیچڑ گیا

کیا ہوا جو اوک بھر لی جھیل سے
کیا ہوا جو ایک پتا جھڑ گیا

دل میں آپ آئے تو نکلے کتنے لوگ
چیونٹیوں کے بل میں پانی پڑ گیا

کس نے چومی ہے مری مفلس جبیں
کون اتنے مہنگے موتی جڑ گیا

وہ اگر ضدی ہے تو ہوتی رہے
میں بھی پارسؔ اڑ گیا تو اڑ گیا

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم