MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا

غزل

کہیں شعور میں صدیوں کا خوف زندہ تھا
میں شاخ عصر پہ بیٹھا ہوا پرندہ تھا

بدن میں دل تھا معلق خلا میں نظریں تھیں
مگر کہیں کہیں سینے میں درد زندہ تھا

پھر ایک رات مجھی پر جھپٹ پڑا مرا ضبط
جسے میں پال رہا تھا کوئی درندہ تھا

خوشی نے ہاتھ بڑھایا تھا میری جانب بھی
مگر وہاں جہاں ہر شخص غم کنندہ تھا

نبرد عشق میں کیا کیا جگر کیا توقیرؔ
ہوا کا لمس بھی جب انتقام ہندہ تھا

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم