MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے

غزل

تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے
خدشات کا موسم ہے سوالات تو ہوں گے

ہر قلب و نگہ میں یہ تضادات تو ہوں گے
دنیائے عجائب میں کمالات تو ہوں گے

اب ہنس کے دکھاؤ تو بڑا ظرف تمہارا
اپنوں سے لگی چوٹ تو صدمات تو ہوں گے

تردید و تردد کے وسائل نکل آئے
تم مل نہیں سکتے تو یہ جذبات تو ہوں گے

دیرینہ روایات پہ دے کون توجہ
یہ دور نیا ہے نئے حالات تو ہوں گے

یوں ہی نہیں ہوتا ہے پریشان مصور
کچھ عیب و ہنر زیر سماوات تو ہوں گے

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم