MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے

غزل

یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے
دل جو اس وقت مرے ہات سے نکلا ہوا ہے

مڑ کے دیکھے بھی تو پتھر نہیں ہوتا کوئی
جانے کیا شہر طلسمات سے نکلا ہوا ہے

رات یہ کون سا مہمان مرے گھر آیا
سارا گھر حلقۂ آفات سے نکلا ہوا ہے

حجرۂ ہجر میں بیٹھا ہے جو مجذوب صفت
عرصۂ شور مناجات سے نکلا ہوا ہے

لشکری گاؤں پہ شب خون نہیں ماریں گے
حوصلہ گشت پہ کل رات سے نکلا ہوا ہے

مانتے کب ہیں بھلا اونچے مکانوں والے
شہر کا شہر مضافات سے نکلا ہوا ہے

زر کا بندہ ہو کہ محرومی کا مارا ہوا شخص
جس کو دیکھو وہی اوقات سے نکلا ہوا ہے

توقیر تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم