MOJ E SUKHAN

سوال شام پہ آیا جواب شب آخر

غزل

سوال شام پہ آیا جواب شب آخر
کشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخر

تمہارے غم مرے خواہاں نہ میرا اپنا وجود
کہاں سے لاؤں گی میں شدت طلب آخر

عنایت ان کی جو وہ حال پوچھ لیں ورنہ
کسی سے ان کے مراسم ہوئے ہیں کب آخر

محبتوں کی روایت تو کائنات میں ہے
تمہاری آنکھ ہے اول نہ میرے لب آخر

تمہارے نام سخن اور تم نہیں سمجھے
ہمارے شعر ہوئے حصۂ ادب آخر

نہیں ملا کوئی یہ بات پوچھنے والا
بنا لیا ہے یہ کیا زندگی کا ڈھب آخر

اڑا جو طائر ہستی تو پھر نہ ٹھہرے گا
نسیمؔ کر تو سہی کوشش طرب آخر

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم