MOJ E SUKHAN

شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے

غزل

شام گزری ہے ابھی غم کی سحر باقی ہے
اک سفر ختم ہوا ایک سفر باقی ہے

کس طرح گھر میں کہوں اپنے شکستہ گھر کو
کوئی دیوار سلامت ہے نہ در باقی ہے

زرد آتا ہے نظر خوف خزاں سے وہ بھی
ایک پتا جو سر شاخ شجر باقی ہے

اب جلائیں بھی دوبارہ تو وہ شاید نہ جلیں
جن چراغوں پہ ہواؤں کا اثر باقی ہے

کیوں رہے تشنۂ خوں وہ بھی ہمارے ہوتے
تیرے ترکش میں کوئی تیر اگر باقی ہے

ختم ہوتے ہی میں آتی نہیں راہ منزل
عمر بھر چلتے رہے پھر بھی سفر باقی ہے

دشت کی خاک ہوا جسم تو کب کا خاورؔ
شہر میں اب بھی مرا نام مگر باقی ہے

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم