MOJ E SUKHAN

زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا

غزل

زخم تو بہت آئے پھر بھی حوصلہ رکھا
عمر بھر محبت میں ہم نے دل بڑا رکھا

جس نے ایک لمحہ بھی تجھ سے واسطہ رکھا
اپنے آپ کو خود سے عمر بھر جدا رکھا

برگ خشک کی صورت لوگ ہو کے آوارہ
سوچتے ہیں سرسر کا نام کیوں صبا رکھا

جب اسے نہ آنا تھا پھر یہ کس توقع پر
ہم نے گھر کا دروازہ رات بھر کھلا رکھا

دل غم زمانہ کی دسترس میں کیا آتا
پتھروں کی زد پر خود ہم نے آئنہ رکھا

عشق کو سلیقے سے کچھ ہمیں نے برتا ہے
ورنہ قربتوں میں یوں کس نے فاصلہ رکھا

یاد کر کے روئے گا تو سلوک غیروں کا
تو نے خاورؔ اپنوں سے کچھ جو واسطہ رکھا

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم