MOJ E SUKHAN

وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے

غزل

وہ اپنے عشق میں کیسا کمال رکھتا ہے
کہ بے رخی میں بھی میرا خیال رکھتا ہے

جو آج میرا نہیں ہے وہ کل مرا ہوگا
کہ ہر زمانہ عروج و زوال رکھتا ہے

عجب نہیں وہ جہاں بھر کو بے وفا سمجھے
نظر میں میری وفا کی مثال رکھتا ہے

کہاں تلک کوئی دست کرم کو زحمت دے
تمام شہر ہی دست سوال رکھتا ہے

مری اڑان کے آگے ہے کس قدر بے بس
یہ آسماں جو ستاروں کا جال رکھتا ہے

ترا خیال ہی کچھ مہربان ہے ورنہ
جہاں میں کون کسی کا خیال رکھتا ہے

مقابل صف اعدا ہے اس طرح خاورؔ
کہ تیغ رکھتا ہے وہ اور نہ ڈھال رکھتا ہے

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم