MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے

غزل

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
پروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہے

ہوتا ہے اثر تم پہ کہاں نالۂ غم کا
برہم جو ہوئی بزم طرب اس کا گلا ہے

فرعون بھی نمرود بھی گزرے ہیں جہاں میں
رہتا ہے یہاں کون یہاں کون رہا ہے

تم ظلم کہاں تک تہ افلاک کرو گے
یہ بات نہ بھولو کہ ہمارا بھی خدا ہے

آزادئ انساں کے وہیں پھول کھلیں گے
جس جا پہ ظہیر آج ترا خون گرا ہے

تا چند رہے گی یہ شب غم کی سیاہی
رستہ کوئی سورج کا کہیں روک سکا ہے

تو آج کا شاعر ہے تو کر میری طرح بات
جیسے مرے ہونٹوں پہ مرے دل کی صدا ہے

حبیب جالب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم