MOJ E SUKHAN

گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

غزل

گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں
کتبے پہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوں میں

آنکھوں میں وسوسوں کی نئی نیند بس گئی
سو جاؤں ایک عمر سے جاگا ہوا ہوں میں

یا رب رگوں میں خون کی حدت نہیں رہی
یا کرب کی صلیب پہ لٹکا ہوا ہوں میں

اپنی بلندیوں سے گروں بھی تو کس طرح
پھیلی ہوئی فضاؤں میں بکھرا ہوا ہوں میں

پتے گرے تو اور بھی آسیب بن گئے
وہ شور ہے کہ خود سے بھی سہما ہوا ہوں میں

شاخوں سے ٹوٹنے کی صدا دور تک گئی
محسوس ہو رہا ہے کہ ٹوٹا ہوا ہوں میں

وہ آگ ہے کہ ساری جڑیں جل کے رہ گئیں
وہ زہر ہے کہ پھول سے کانٹا ہوا ہوں میں

کٹتے ہوئے تنے کا بھی نوچا گیا لباس
گر کر زمیں پہ اور بھی رسوا ہوا ہوں میں

افضلؔ میں سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھے
مٹی ملی تو اور بھی چٹخا ہوا ہوں میں

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم