MOJ E SUKHAN

سورج چھپا اک اک گل منظر بکھر گیا

غزل

سورج چھپا اک اک گل منظر بکھر گیا
شعلہ سا کوئی دل میں اتر کر بکھر گیا

تھا چاندنی کا جسم کہ شیشے کا تھا بدن
آئی ہوا تو گر کے زمیں پر بکھر گیا

کل ہنس کے ریگ دشت سے کہتی تھی زندگی
میں نے چھوا ہی تھا کہ وہ پتھر بکھر گیا

ندی پہ ایک نرم کرن نے رکھا جو پاؤں
چاروں طرف صدا کا سمندر بکھر گیا

جعفرؔ ہمارا دل بھی ہے وہ آئنہ کہ بس
کھائی ذرا نگاہ کی ٹھوکر بکھر گیا

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم