MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے

غزل

حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے
زندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہے

اس کی خاطر تو گوارا کوئی بن باس بھی ہے
سب کے ہونٹوں پہ مری رام کہانی تو رہے

ضبط میں یہ بھی ہے گویائی کا اپنا انداز
لب ہوں خاموش مگر اشک فشانی تو رہے

گر اجالوں سے گریزاں ہے دھندلکوں میں تو آ
دن بہ ہر طور کٹا شام سہانی تو رہے

تو نہ شیریں نہ میں فرہاد مگر یوں تو ملیں
ہم رہیں یا نہ رہیں اپنی کہانی تو رہے

آؤ کچھ دیر کریں پہلے پہل کی باتیں
یاد اس پیار کی وہ رسم پرانی تو رہے

تیری آنکھیں تو بنیں خشک جزیرے جعفرؔ
یہ جو دریا ہیں تو دریاؤں میں پانی تو رہے

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم