MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک

غزل

دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک
رات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تک

تو یہ کہتا ہے کہ تو کل رات میرے ساتھ تھا
میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے تجھ کو ڈھونڈا دیر تک

پاس رکھ کر اجلے اجلے دودھ سے یادوں کے جسم
دیر سے بیٹھا ہوں میں بیٹھا رہوں گا دیر تک

پہلے تیری چاہتوں کے غم تھے اب فرقت کے دکھ
مجھ پہ اب طاری رہے گا یہ بھی عرصہ دیر تک

کون ٹھہرے آنے والے موسموں کے سامنے
کون خالی رکھ سکے طاق تماشا دیر تک

اب وہ باتیں اب وہ قصے کس طرح جعفرؔ بھلائیں
ایسے صدموں کا اثر دل پر رہے گا دیر تک

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم