MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ

غزل

دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ
شعلہ کہ تہہ آب نکھرتا ہے زیادہ

کیا جانیے کیا بات ہے اب دشت کی نسبت
دل خامشیٔ شہر سے ڈرتا ہے زیادہ

اندر کا وہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی
بنتا ہے زیادہ وہ سنورتا ہے زیادہ

جو آنکھ کے جلتے ہوئے صحرا سے پرے ہے
بادل اسی رستے سے گزرتا ہے زیادہ

رخ شہر کی جانب ہوا جنگل کی ہوا کا
اور شور مرے دل میں ابھرتا ہے زیادہ

جعفرؔ یہ لگا زخم محبت بھی عجب ہے
بڑھتا ہے زیادہ جو نہ بھرتا ہے زیادہ

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم