MOJ E SUKHAN

جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں

غزل

جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں
شہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میں

پائمال سبزے پر دیکھ کر گرے پتے
اب زمین سے خود کو کس طرح اٹھاؤں میں

ان اکیلی راتوں میں ان اکیلے رستوں پر
کس کے ساتھ آؤں میں کس کے ساتھ جاؤں میں

ایک ہی سی تنہائی ایک ہی سا سناٹا
دشت کیا ہے دل کیا ہے کیا تجھے بتاؤں میں

دیکھ کیسے دن آئے دیکھ میں نہ کہتا تھا
تو قریب بھی آئے اور تجھے بلاؤں میں

آج سب میں گھل مل جاؤں مجھ کو کیا خبر کل تک
کس کو یاد آؤں میں کس کو بھول جاؤں میں

کتنے کام دنیا نے دے دیئے مجھے جعفرؔ
اشک غم گراؤں میں بار غم اٹھاؤں میں

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم