MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا

غزل

تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا
یہ عکس بھی آشنا سا ہے کچھ مگر وہ چہرہ ہی دوسرا تھا

وہ ادھ کھلی کھڑکیوں کا موسم گزر گیا تو یہ راز جانا
ادھر شناسائی تک نہیں تھی ادھر تقاضا ہی دوسرا تھا

گلاب کھلتے تھے چاہتوں کے چراغ جلتے تھے آہٹوں کے
جہاں برستی ہیں وحشتیں اب کبھی وہ رستہ ہی دوسرا تھا

کبھی نہ کہتا تھا دل ہمارا کہ آنسوؤں کو لکھیں ستارہ
جدائیوں کی کسک سے پہلے یہ استعارہ ہی دوسرا تھا

اداس لفظوں کے راستے میں یہ روشنی کی لکیر کب تھی
محبتوں کے سفر سے پہلے غزل کا لہجہ ہی دوسرا تھا

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم