MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے

غزل

کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے
پھر ترے خواب مجھے مجھ سے چرانے آئے

پھر دھنک رنگ تمناؤں نے گھیرا مجھ کو
پھر ترے خط مجھے دیوانہ بنانے آئے

پھر تری یاد میں آنکھیں ہوئیں شبنم شبنم
پھر وہی نیند نہ آنے کے زمانے آئے

پھر ترا ذکر کیا باد صبا نے مجھ سے
پھر مرے دل کو دھڑکنے کے بہانے آئے

پھر مرے کاسۂ خالی کا مقدر جاگا
پھر مرے ہاتھ محبت کے خزانے آئے

شرط سیلاب سمونے کی لگا رکھی تھی
اور دو اشک بھی ہم سے نہ چھپانے آئے

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم