MOJ E SUKHAN

سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا

غزل

سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا
اب کوئی خواب نہیں نیند اڑانے والا

یہ وہ صحرا ہے سجھائے نہ اگر تو رستہ
خاک ہو جائے یہاں خاک اڑانے والا

کیا کرے آنکھ جو پتھرانے کی خواہش نہ کرے
خواب ہو جائے اگر خواب دکھانے والا

یاد آتا ہے کہ میں خود سے یہیں بچھڑا تھا
یہی رستہ ہے ترے شہر کو جانے والا

اے ہوا اس سے یہ کہنا کہ سلامت ہے ابھی
تیرے پھولوں کو کتابوں میں چھپانے والا

زندگی اپنی اندھیروں میں بسر کرتا ہے
تیرے آنچل کو ستاروں سے سجانے والا

سبھی اپنے نظر آتے ہیں بظاہر لیکن
روٹھنے والا ہے کوئی نہ منانے والا

لے گئیں دور بہت دور ہوائیں جس کو
وہی بادل تھا مری پیاس بجھانے والا

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم