MOJ E SUKHAN

ذرا سی بات کے کیا کیا بنے ہیں افسانے

غزل

ذرا سی بات کے کیا کیا بنے ہیں افسانے
ہمیں جنوں ہی سہی لوگ کیوں ہیں دیوانے

پڑے نہ کام جہاں دوستوں سے کام پڑا
وہیں پہ ٹوٹ گئے مدتوں کے یارانے

نیا ہے عہد مراسم کے ہیں نئے معیار
بدل گئے ہیں خلوص و وفا کے پیمانے

پس غبار تو چہروں کو ہم نے دیکھ لیا
یہ اور بات ہواؤں کے رخ نہ پہچانے

گیا وہ جلوہ وہ جذبہ وہ محفلیں بھی گئیں
نہ اب وہ شمع فروزاں نہ اب وہ پروانے

کسے گماں تھا کہ بن جائیں گے رقیب وہی
وہ خیر خواہ جو آتے تھے ہم کو سمجھانے

ہمیں تو خیر شعور خود آگہی تھا کہاں
یہ کیا کہ اہل نظر بھی ہمیں نہ پہچانے

وہ جاں نثاریٔ باہم وہ پاس عہد وفا
وہ لوگ بزمؔ کہاں کھو گئے خدا جانے

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم