MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا

غزل

سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا
سلگ اٹھے ہو تو جلنے کا حوصلہ رکھنا

نئی فضا میں نئے پر نکالنے ہوں گے
فلک کو زیر زمیں کو گریز پا رکھنا

تمہارے جسم کے صندل کی آبرو ہے بہت
ہجوم شوق میں رہ کر بھی فاصلہ رکھنا

زمین پھول فضا نور آسمان دھنک
انہیں میں رہنا مگر رنگ بھی جدا رکھنا

تمہارے شہر کے لب بستہ شاعروں میں سے ہوں
مرے لیے بھی کوئی حرف بے نوا رکھنا

یہ زینتیں بھی عجب ہیں یہ سادگی بھی عجب
ریا کے سارے ہنر جسم پر سجا رکھنا

نہ جانے کون سا کس وقت کام آ جائے
سو ایک جیب میں بت ایک میں خدا رکھنا

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم