MOJ E SUKHAN

مانا کہ اسے ہم سے کبھی پیار نہیں تھا

غزل

مانا کہ اسے ہم سے کبھی پیار نہیں تھا
ظالم مگر اتنا بھی دل آزار نہیں تھا

ہم جس سے توقع پہ منانے کی خفا تھے
وہ نام بھی سننے کا روادار نہیں تھا

مدہوشیٔ الفت میں عجب بے خبری تھی
دل ہوش میں آ کر بھی خبردار نہیں تھا

سوچا تھا کڑی دھوپ میں یاروں کے محل ہیں
دیکھا تو کہیں سایۂ دیوار نہیں تھا

غم اور بھی تھے یوں تو غم یار سے پہلے
ایسا بھی مگر حال دل زار نہیں تھا

یہ تلخ حقائق بھی ہیں اپنوں ہی سے منسوب
غیروں میں کوئی در پئے آزار نہیں تھا

کام ان سے پڑا بزمؔ کہ جن فتنہ گروں سے
جی بات بھی کرنے کا روادار نہیں تھا

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم