MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں

غزل

کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں
رنگ عجیب گھل گئے کیفیت ملال میں

مہر تھی مرے نطق پر تیرے لبوں کی نغمگی
ورنہ جواب تھے چھپے تیرے ہر اک سوال میں

بول تو سوچ سوچ کر چل تو سنبھل سنبھل کے چل
کی ہے بہت گلو کی بات ہم نے تری مثال میں

سرد دنوں کی طرح گم ہو گئی اپنی زندگی
فرق کہاں رہا کوئی ماہ میں اور سال میں

میرے رواق دل میں تو چلتا تھا کتنے ناز سے
آ گئی کیسے اب لچک تیری صبا سی چال میں

میرے فراق میں تری عمر ٹھہر گئی تھی کیا
بال سفید ہو گئے میرے ترے خیال میں

موسم تازہ ہو کبھی میری طرف بھی اک نظر
اترے کوئی نیا پرند میرے غموں کے تال میں

اپنے کنارہ کر نہ اب باقرؔ خوش مثال سے
بے ہنری شریک تھی اس کی ترے کمال میں

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم