MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا

غزل

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا
بس ایک پھول ہی تو تھا بکھر گیا تو کیا ہوا

کبھی کبھی تو روشنی بھی اک عذاب جاں ہوئی
وہ چاندنی سے تیری کوکھ بھر گیا تو کیا ہوا

نہ رات ہی سنور گئی نہ روشنی ہی مر گئی
اندھیری باؤلی میں چاند اتر گیا تو کیا ہوا

کمال جگنوؤں کا تھا کہ روشنی میں کھو گئے
فریب اپنے سائے ہی سے ڈر گیا تو کیا ہوا

مرے لیے تو خواب ایک چشمۂ حیات تھا
کسی کو خواب خواب تھا بکھر گیا تو کیا ہوا

گزرتے موسموں کے قافلے تو روندتے رہے
غریب کوئی صحن سے گزر گیا تو کیا ہوا

نہ میں کوئی سوار ہوں نہ کوئی مال دار ہوں
ادھر رہا تو کیا ہوا ادھر گیا تو کیا ہوا

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم