MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی انسان کو اتنا نہ ستایا جائے

غزل

کسی انسان کو اتنا نہ ستایا جائے
کہ وہ اپنوں سے بھی ہوکر کے پرایا جاۓ

یہ عمل بھی تو عبادت کا اثر رکھتا ہے
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

جس پہ دنیا کے سب انسان اب اک ساتھ چلیں
کم سے کم راستہ اک ایسا بنایا جائے

یہ زمیں بوجھ زیادہ نہیں سہہ سکتی ہے
نفرتیں بانٹنے والوں کو مٹایا جائے

آسمانوں کا جگر چیر کے جائے گی صدا
نعرہء حق جو فضاؤں میں لگایا جائے

پہلے تصدیق کرو ٹھیک سے اس کے حق میں
مرتبہ یوں ہی کسی کا نہ بڑھایا جائے

روشنی کم ہوئی جاتی ہے اس کی شب و روز
اب منور کو منور سے ملایا جائے

منور جہاں زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم