غزل
سخن کے ساز پہ جب بھی قلم نے رقص کیا
غزل کی شکل میں اس وقت ہم نے رقص کیا
کسی کے ساتھ خوشی ہم کو جب نہ مل پائی
ہمارے دل کے دریچے میں غم نے رقص کیا
وہاں پہ صبح کو نکلا عذاب کا سورج
تمام شب جہاں اہل ستم نے رقص کیا
مسرتوں میں جہاں لوگ رب کو بھول گئے
اسی مقام پہ رنج و الم نے رقص کیا
وہ جس کے ظلم سے کل غمزدہ ہوئی تھی میں
وہ رو پڑا تو مری چشم نم نے رقص کیا
ہمارے ساتھ ہیں رنگینیاں زمانے کی
ہمارے دل میں سدا اس بھرم نے رقص کیا
عطائے رب سے منور جو مل گئ روٹی
خوشی کے ساتھ ہمارے شکم نے رقص کیا
منور جہاں زیدی