MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

انقلابات کی زنداں سے ہوا آتی ہے

غزل

انقلابات کی زنداں سے ہوا آتی ہے
خون مقتل سے مجھے بوئے حنا آتی ہے

مار ڈالے نہ کہں عشق کا صحرائے جنوں
سوئے زنداں طبعِ آزاد لئے جاتی ہے

ماند پڑ جائے کہیں اس بت مر مر کی چمک
اس کے ڈھکنے کو شعاعوں کی قبا آتی ہے

کب تلک روکے گا مجھ کو یہ طلسمات جہاں
چند دن آدمی دنیا میں مقاماتی ہے

تو بھی تا دم ہے مرے پاس مرا اپنا ہے
بوجھ جب تک بھی مری پشت اٹھا پاتی ہے

میں نبٹ لوں گی خود ہی اتنا گراں بار نہیں
مسئلہ تیرا نہیں ہے یہ مرا ذاتی ہے

تو بھی اک روز نگاہوں سے اتر جائے گا
سر پہ دستار ترے شیج یہ خیراتی ہے

خوش نہیں آئے گا وہ شخص منوّر تم کو
مجھ کو معلوم ہے وہ فطرتاََ جذباتی ہے

منور جہاں منور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم